Make your own free website on Tripod.com

 

نوجوان افسانہ نگار مظہر سلیم کو منظرکاظمی ایوارڈ

امسال منظرکاظمی ایواڈ ممبی کے نوجوان افسانہ نگار اور ادبی رسالے سہ ماہی تکمیل کے مدیر مظہر سلیم کو دیا گیا۔
یہ ایوارڈ جمشید پور میں ستمبر میں ایک ادبی تقریب میں انھیں دیا گیا۔ہر سال یہ ایوارڈ مرحوم منظر کاظمی کی یاد میں اردو قبیلہ بھیونڈی،جمشید پور کی جانب سے کسی نوجوان افسانہ نگار کو دیا جاتا ہے۔
مظہر سلیم کے اردو میں دو افسانوی مجموعہ جہاد اور اپنے حصے کی دھوپ اور ہندی میں بھیتر باہر کا آدمی شایع ہو چکے ہیں۔
اس ایوارڈ پر ادب نامہ مظہر سلیم کو مبارک باد دیتا ہے۔
اس سلسلے میں پیش ہے مظہر سلیم کا ایک افسانہ دراڈ

ایم مبین

دراڑ

lمظہر سلیم
 

 

اِن دِنوں سُکھ دیو یہ محسوس کرنےلگا تھا کہ قدیم عمارت کا کوئی حصہ کہیں سےٹوٹ کر گر پڑا ہے مگر کون سا حصہ کچھ پتہ نہیں چلتا تھا اِسی لئےوہ اپنےآگےپیچھےدیکھتا ۔ اُس کےپیچھےصدیوں پرانا سناٹا تھا اور اُس کےآگےصرف آوازیں چلتی تھیں ۔ بھجن اور کیرتن کی کانوں کو پھاڑنےوالی آوازیں جو اُس کا مسلسل تعاقب کرتیں اور اُسےکسی لمحہ چین نہ لینےدیتیں ۔ اِن آوازوں سےپیچھا چھڑانا اُس کےلئےمشکل ہی نہیں ناممکن ہوگیا تھا ۔
پھر سُکھ دیو عمارت کی آخری منزل پر چلا گیا جہاں فلیٹ نمبر ٣٠٧ میں پوجا کا پروگرام تھا ۔ بڑی عقیدت و احترام سےوہ بھی کمرےمیں داخل ہوگیا اندر کافی ہنگامہ برپا تھا ، خوب گلال اُڑایا جارہا تھا اور ہری اوم کی آوازیں بلند ہورہی تھیں ۔ صبح جب وہ دودھ ، بریڈ اور بٹر لینےباہر نکلا تھا تو اُس نےکمپاو

نڈ میں ستیہ نارائن کی مہا پوجا کا ایک بورڈ دیکھا تھا ۔ حالانکہ اُس بلیک بورڈ پر ایک سیاسی پارٹی کےبھگت روزانہ خبروں پر مشتمل کارٹون بناتےتھے۔ کبھی اُس بورڈ پر مسلمان اور پاکستان کےخلاف نفرت آمیز جملےتحریر کئےجاتےتھےاور کبھی موجودہ سرکار کا مضحکہ اُڑایا جاتا تھا ۔ مگر آج پہلی مرتبہ پوجا کا پروگرام تحریر تھا ۔ سُکھ دیو کو تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی ۔ افسوس اِس لئےکہ اِن دِنوں کالونی میں پوجا کےپروگرام تواتر کےساتھ ہونےلگےتھے۔ مہا آرتیوں کا سلسلہ بھی طول پکڑ رہاتھا ۔ پوجا اور آرتیوں کےنام پر زبردستی چندہ بھی وصول کیا جاتا تھا ۔
سُکھ دیو واپس اپنےفلیٹ میں آکر کرسی پر دراز ہوگیا ۔ اُس کےچہرےسےتھکن ظاہر ہورہی تھی ۔ چہرےکی جھرّیوں میں کوئی فکر پوشیدہ تھی ۔ وہ سنبھل کر بیٹھ گیا ٹیبل پر سےاخبار اُٹھا کر خبروں میں کچھ تلاشنےلگا ۔ سارا اخبار یا تو بھائی کی غنڈپ گردی سےبھرا ہوا تھا یا لادین کی دہشت سے، گینگ وار سے، بم بلاسٹ ملزموں کی فہرست سےیا پھر سنجےدت کی رہائی یا ٹاڈا اور پوٹو جیسےسیاسی قانون کو ختم کرنےکےسیاسی بیانات سے۔ وہ تو یوں بھی اخبار میں ہندو مسلم فسادات کی خبریں پڑھتےپڑھتےاور بھائی اور لادین کےمتعلق انکثافات سےبور ہوگیا تھا ۔ یہ دونوں ایک ایسی خبر بن گئےتھےکہ اِنھیں روزانہ شائع کرنا لازمی تھا ۔
سُکھ دیو اُس وقت حیرت زدہ رہ گیا تھا جب اخبار سےنکل کر کوئی اُس سےسرگوشی کرنےلگا تھا ، اُس کا مزاج پوچھنےلگا تھا ، اُس کا مضحکہ اُڑانےلگا تھا اور آخر میں اُسےسوالیہ نظروں سےدیکھنےلگا تھا ۔ یہ کوئی اور نہیں خدا بخش تھا ۔ وہی خدا بخش جو اُس کا دیرینہ دوست تھا غم خوار اور سُکھ دُکھ کا شریک ۔ خدا بخش کا نورانی چہرہ اُس کی آنکھوں کےاسکرین پر اُبھرنےڈوبنےلگا اور وہ اُس کی زندگی کےپُر خار راستوں پر نکل پڑا ۔
خدا بخش فلیٹ نمبر ٢٠١ میں اپنےبھرپور خاندان کےساتھ بڑےسکون سےرہائش پذیر تھا ۔ شیواجی کالونی میں اُس جیسےبہت سےمسلمان رہتےتھے۔ مگر فساد نےسبھی مسلمانوں کو در بدر کردیا تھا اور وہ سب اپنا ساز و سامان چھوڑ اپنی جانوں کو بچا کر بھاگ کھڑےہوئےتھے۔ وہ منظر تو بڑا ہی بھیانک تھا جب شہر جل رہا تھا ، بھگدڑ مچ گئی تھی ، آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی ، ہر طرف آہ و بکا کا روح فرسا عالم تھا ۔ مسلمانوں کو تو پہلےہی خوف زدہ کردیا گیا تھا اور اب اُن سےکالونی کو چھوڑ کر چلےجانےکو کہا جا رہا تھا مگر خدا بخش یہاں سےجانےکو تیار نہ تھا ۔ لوگوں کو اور گھروں کو جلتا دیکھ کر بھی اُس کےحوصلےپست نہیں ہوئےتھے۔
وہ کہنےلگا ۔ یار سُکھ دیو ! ایسا کیا ہوگیا کہ ہمیں اِس کالونی سےباہر نکالا جارہا ہے ہم تو برسوں سےیہاں رہ رہےہیں ۔ اور ہم نےکسی کا کیا بگاڑا ہے؟ نہ جھگڑا نہ فساد ، نہ حجت نہ تُو تُو میں اور نہ ہی کوئی جھڑپ ۔ ہم تو سب کےدوست ہیں ہمارا کوئی دشمن نہیں ۔

سُکھ دیو اُسےبار بار سمجھاتا ۔ میرےیار خدا بخش ! حالات کےبگڑےہوےتیور کو دیکھو نفرت کی دلدلی زمین کو دیکھو اور پھر فیصلہ کرو ۔ فی الحال تم کسی مسلم بستی میں چلےجاو

۔ یہاں کےمکینوں پر جنون طاری ہے کہیں وہ تمہاری بلی نہ چڑھا دیں ۔ ہندوتوا اور رام لہر نےاُن کےاندر حیوانیت بھر دی ہےاِسی لئےوہ سب راون بن گئےہیں ۔ مگر خدا بخش یہاں سےجانےکو تیار نہیں تھا اُسےکیا پتہ تھا کہ جنون کیا ہوتا ہے، حیوان کسےکہتےہیں اور راون کون تھا ۔
خدا بخش ایک سیدھا سادہ ، مخلص ، ملنسار اور نیک دل مسلمان تھا ۔ وہ عام مسلمانوں سےذرا مختلف بھی تھا ۔ اُس سےکسی کو ذرّہ برابر بھی تکلیف نہ پہنچی تھی اور نہ ہی اُس سےکوئی آج تک ناراض ہوا تھا ۔ وہ ہر معاملےمیں پیش پیش رہتا تھا بڑا معاملہ فہم واقع ہوا تھا وہ ۔ اُس نےکبھی کسی قسم کا بھید بھاو

نہیں کیا تھا کون ہندو ، کون مسلمان اُس کےلئےتو سبھی انسان برابر تھا وہ ظاہری طور پر تھا تو کٹر مسلمان مگر اُس کےاندر ایک بہت بڑا انسان سانسیں لےرہا تھا جو اُسےمظلوموں اور پچھڑےہوئےلوگوں سےقریب کردیتا تھا ۔
خدا بخش آزادی کےبعد ہی اِس کالونی میں داخل ہوا تھا اُس سےقبل وہ آکاش دیپ بلڈنگ میں رہا کرتا تھا بارش کی زیادتی کی وجہ سےاُس بلڈنگ کا ایک حصہ گر پڑا تھا تو وہ جل درشن میں منتقل ہوگیا اور کئی برس تک وہیں رہا ۔ لیکن جلد ہی اُس نےشیواجی کالونی میں فلیٹ خرید لیا تھا ۔ کالونی کی عمارتوں میں مختلف مذہب ، ذات اور زبان بولنےوالےآباد تھےجن میں مسلمان آٹےمیں نمک کی طرح تھے۔ یہاں کبھی ہندو مسلم تناو

ہوا تھا اور نہ ہی چھوٹی موٹی جھڑپیں ۔ مگر گنیش وسرجن کےموقع پر کچھ شرابی نشےمیں آپس میں ٹکرا جاتےتھےتو تناو

پیدا ہوجاتا تھا لیکن اِس تناو

سےکوئی متاثر نہیں ہوتا تھا اور مسلمان تو بالکل نہیں ۔
70سالہ خدا بخش اڑتالیس برسوں سےاِس کالونی میں سکونت پذیر تھا ۔ وہ نہ تو کبھی مسئلہ بنا تھا اور نہ ہی اُس نےکبھی مسائل پیدا کئےتھے نہ فتنہ انگیزی ، نہ مکر و فریب کا سہارا لیا تھا ۔ وہ تو بس نظریں جھکائےاور سینہ پھلائےبغیر ہی گذر جاتا ۔ وہ ایک شرافت کا پتلا تھا ، کالونی کےدوسرےلوگ بھی اُسےبہت پسند کرتےاور اُس پہ اعتماد کرنےکےعلاوہ اُسےایک سچا انسان تصور کرتےتھے۔
خدا بخش کو ہم نےکبھی مسلمان سمجھا ہی نہیں تھا ۔ وہ ہمارےتہواروں اور پروگراموں میں اِس طرح شرکت کرتا تھا جیسےوہ ہمارا ہم مذہب ہو ۔ جب کہ وہ ایک دین دار مسلمان تھا ۔ پڑوس کی جھونپڑ پٹی کی غوثیہ مسجد میں امام تھا ۔ جب نماز پڑھانےکےلئےجاتا تو اُس کی شان ہی کچھ اور ہوتی سر پر ٹوپی ، ہاتھ میں تسبیح ،نورانی چہرہ ، پیشانی پر بڑا سا کالا نشان اور چہرےپر سفید داڑھی ۔ اُسےدیکھ کر تو رشیوں اور منیوں کا تقدس یاد آجاتا تھا وہ بڑا با اخلاق اور مہذب شخص تھا ۔ ہمیشہ سلام کرنےمیں پہل کرتا اور ہر کسی سےمسکرا کر ملتا ۔ شادی بیاہ میں سب سےآگےہوتا اور ہر کام بحسن خوبی انجام دیتا ۔ وہ اپنےسےچھوٹوں کی عزت کرتا اور اُنھیں پیار سےبلا کر اپنی گود میں اُٹھا لیتا اور اُنھیں پیار کرتا ۔ فرصت کےاوقات میں اُن کےساتھ کھیلتا کرکٹ کھیلتےبچوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا تھا ۔ گنپتی اور ہندوو

ں کےدوسرےتہواروں کےموقع پر جلوس میں شریک لوگوں کو پانی پلاتا ، عید اور دیوالی کےموقع پر مٹھائیاں تقسیم کرتا ۔ اِن سارےکاموں کو وہ ثواب کا درجہ دیتا ۔ اِسی لئےبہت سےمسلمان اُس کےاِس رویّےسےناراض رہتےتھے، اِس طرح اُس کی مخالفت روز بروز بڑھتی جارہی تھی ۔ بعض مسلمانوں کو خدا بخش کےیہ طور طریقےپسند نہ تھے۔ بہت سےمفتیوں نےاُسےکافر قرار دیا تھا اور اُسےمسجد کی امامت سےہٹانےکےلئےاندر ہی اندر سازشیں ہونےلگی تھیں فتوےبھی لائےگئےتھے۔
پہلےپہل خدا بخش سےمیری کوئی خاص شناسائی نہیں تھی ۔ بس رسمی سی جان پہچان تھی کبھی آمنا سامنا ہوگیا تو بات دعا سلام سےآگےنہ بڑھی لیکن خدا بخش تو دلوں میں گھر کرنےوالا شخص تھا ۔ چھوٹےبڑےسبھی اُسےعزت کی نگاہ سےدیکھتےتھے۔ ایک عرصےسےمیری بچی میگھا کی طبیعت کچھ خراب رہنےلگی تھی گھریلو علاج اور ڈاکٹروں کی دوائیں بےاثر ہوگئی تھیں ۔ کئی دنوں تک میں ایک ڈاکٹر سےدوسرےڈاکٹر کےپاس مارا مارا پھرتا رہا مگر کوئی فائدہ نہیں ہورہا تھا تب مجھےڈاکٹر جوشی نےمشورہ دیا کہ اِس کا علاج دعا اور تعویذ سےہوسکتا ہے۔ مندروں ، سادھوو

ں اور سنتوں کےچکر سےنہیں بلکہ مسلمانوں کی دعا سے۔
مَیں نےحیرت زدہ ہوکر دریافت کیا مگر کیسے؟ تو وہ کہنےلگے۔ بہت آسان ہے! کسی مسجد کےباہر گلاس میں پانی لئےکھڑےہوجاو

اور جو نمازی نکلیں اُن سےدعا کروا لو ۔ یقینا یہ صحت یاب ہوجائےگی ۔ اُنھوں نےیہ بھی بتایا کہ مسلمانوں کی پوِتر کتاب کی آیتوں میں بڑی تاثیر ہے۔ یہ بات ڈاکٹر جوشی نےاتنےیقین سےاِس لئےبھی کہی تھی کہ اُنھوں نےقرآن اور اسلام کا بڑی باریک بینی سےمطالعہ کیا تھا اور وہ اسلامی معلومات کا خزانہ رکھتےتھے۔
مَیں مسجد کےباہر ہاتھ میں پانی کا گلاس لئےکھڑا تھا میری طرح اور لوگ بھی کھڑےتھے نمازی مسجد سےباہر نکلتےاور پانی پر کچھ پڑھ کر پھونکتےہوئےجاتے آخر میں امام صاحب باہر آئےاُنھوں نےمجھےدیکھا تو تعجب میں پڑ گئے۔
تُم سُکھ دیو ہی ہوناں؟ مَیں نےفوراً جواب دیا ہاں ! مَیں نےاُنھیں غور سےدیکھا اُن کا چہرہ چمک رہا تھا مگر میری آنکھیں ڈبڈبانےلگی تھیں ۔ مَیں اپنی بچی کےلئےبےحد پریشان ہوں اب تو ڈاکٹروں نےجواب دےدیا ہےکہتےہیں کہ اب اوپر والا ہی کچھ کرسکتا ہے۔ میری بچی میگھا کئی دنوں سےبیمار ہےآنکھیں ہی نہیں کھولتی مجھ سےجو کچھ ہوسکتا تھا سب میں نےکیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ طبیعت بگڑتی چلی گئی ۔ اب آپ کچھ کیجئے !
خدا بخش نےمجھےاپنےگھر کی طرف چلنےکا اشارہ کیا اور میرےپیچھےپیچھےہی چلےآئے اندر آکر اُنھوں سےمیگھا کو اپنی گود میں بھر لیا پھر کچھ پڑھ کر اُس کےچہرےپر پھونکتےرہےپھر اُسےلِٹا دیا ۔ اور اُس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دم کرنےلگے۔ پڑھتےجاتےتھےاور پھونکتےجاتےتھے۔ گلاس میں پانی لےکر اُس میں پھونکا اور پھر بچی کےمنہ پر چھینٹےمارتےرہےبڑی دیر تک یہ عمل کرنےکےبعد آہستہ آہستہ بچی ہوش میں آنےلگی ہم سب کےچہرےکھل اُٹھے ایسا لگا جیسےکسی بہت بڑی مصیبت سےنجات مل گئی ہو ۔

پھر وہ اکثر وہ بیشتر ہمارےیہاں آنےلگے۔ وہ یونانی دوائیاں بھی لےآتے۔ کئی دنوں تک علاج کرنےسےمیگھا صحت یاب ہونےلگی اور ہم خدا بخش کی دعاو

ں کےقائل ہوگئے۔ ہماری زندگی میں اب اُن کی حیثیت کسی اوتار کی سی ہو گئی تھی ۔ اِس واقعہ کےبعد خدا بخش میرےبہت اندر تک اتر چکا تھا اور اُس نےمیرےمن کےاندھیروں میں جوت جگا دی تھی ۔ ہم دونوں میں خوب جمنےلگی تھی ۔ روزانہ رات کی نماز کےبعد ہم نورانی ریسٹورانٹ میں بیٹھتے۔ وہ اُردو اخبار پڑھتا اور میں فلموں کےوگیاپن دیکھتا ۔ سیخ کباب مجھےبہت پسند تھےاور یہ اِس ہوٹل کی مشہور ڈش تھی ۔ کوئی تہوار ہو ، پوجا ہو یا کوئی پروگرام ہو خدا بخش موجود رہتا وہ اب میرےگھر کا ایک فرد بن گیا تھا اور میں بھی اُس سےاِس قدر بےتکلف ہوگیا تھا کہ لوگ مجھےبھی اُس کا بھائی سمجھنےلگےتھے۔ ہم ایک دوسرےکےبغیر رہ ہی نہیں سکتےتھے مَیں فیکٹری سےواپس آتا تو خدا بخش ہی کو تلاش کرتا وہ بھی میرا انتظار کرتا اور میرےلئےبےچین رہتا ۔
خدا بخش کا خاندان دو لڑکےاور تین لڑکیوں پر مشتمل تھا چھوٹا لڑکا منترالیہ میں کلرک تھا اور بڑا مسقط گیا ہوا تھا ۔ لڑکیاں کالج جاتی تھیں ایک لڑکی منورا کو اُس نےعربی تعلیم حاصل کرنےکےلئےشہر سےدُورمالیگاو

ں بھیج دیا تھا ۔ گھر کی تمام خواتین پردےکا بڑا اہتمام کرتی تھیں اُس کی بیوی تو اِس بڑھاپےمیں بھی برقعہ اوڑھتی تھیں ۔
کالونی کےمکینوں کو اُن سےکوئی گلہ تھا اور نہ شکایت تھی ۔ خدا بخش کےخاندان کی خواتین بلند اخلاق تھیں اُن سےہر کوئی گھل مل جاتا تھا ۔ کسی ذات اور دھرم کا ہو اُس کےساتھ میل جول بڑھانا اور تعلقات استوار کرنا اور اُنھیں سلیقےسےنبھانا یہ گُر وہ سبھی اچھی طرح سےجانتےتھے۔ میری بیٹی میگھا تو اُن کےگھر میں ہی رہتی اور اُن کےساتھ بیٹھ کر مانس مچھلی کھاتی اور اُنھی کی طرح شلوار قمیص پہنتی تھی غرض کےاُن کےرنگ میں رنگ گئی تھی ۔ دوست احباب اور رشتےدار ہمیں اِسی لئےناپسند کرتےتھےکہ ہم مانس مچھلی کھانےلگےتھےاور خدا بخش جیسےمسلمان کےساتھ میل ملاپ بڑھانےلگےتھے۔ لیکن مَیں دوستی کو مذہب سےبڑا سمجھتا تھا ۔
کچھ دن تک تو کالونی محفوظ رہی مگر مَیں نےخطرےکی آہٹ سن لی تھی ۔ مَیں خدا بخش سےبار بار کہتا رہا کہ یہاں سےکسی مسلم بستی کی طرف نکل جاو

مگر وہ نہ مانا اور ہمیشہ انکار کرتا رہا ۔ بس وہ یہی کہتا کہ کالونی کےمکین اُسےنقصان کیوں پہنچائیں گےوہ تو اُس کی بہت عزت کرتےہیں اور نہ کسی سےکوئی دشمنی ہےاور نہ کوئی اختلاف ۔ تو پھر مَیں یہاں سےکیوں بھاگوں ۔ پھر وہ جذباتی انداز میں کہنےلگا ۔ یار سُکھ دیو ! تمہارےبغیر تو میں نامکمل ہی رہوں گا ۔ تمہارا خلوص ، دوستی ، پیار اور یادوں کو لےکر کہاں کہاں بھٹکوں گا ۔ مَیں تمہیں چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا اور وہ نہیں گیا ۔ مگر وہی ہوا جس کا مجھےڈر تھا ۔ اُسےپھانس لیا گیا اور مَیں اُسےبچا بھی نہیں پایا ۔ کاش ! میں اُسےاُن درندوں سےبچا سکتا ۔ وہ دن بھی مجھےیاد رہےگا جو میری زندگی کا ناسور بن چکا ہے۔ جب شہر سمشان میں تبدیل ہوگیا تھا ایک قیامت برپا ہوگئی تھی ۔ پولس کا ظلم اور زیادتیاں کسی وبا کی طرح شہر پر حملہ آور ہوئی تھیں ہر طرف خون ، آگ ، مار دھاڑ ، چیخ پکار اور لوٹ مار کا بازار گرم تھا ۔ ایسی بہت سی برہنہ سچائیاں میری یادداشت میں محفوظ تھیں ۔ کبھی کبھی مَیں سوچتا ہوں کہ خدا بخش کےساتھ بہت زیادتیاں ہوئیں ۔ اُسےجان بوجھ کر اذیت کی بھٹی میں جھونکا گیا مسلمان ہونےکی سزا اُسےخوب ملی ۔ مہانگر میں اِس بار جو کچھ ہوا تھا وہ اِس صدی کا سب سےبھیانک فساد تھا کالونی میں بھی بہت برا ہوا اور انتہائی شرمناک بھی اُس دن تو انسانیت بھی سسکنےلگی تھی ۔ یہاں کےمسلمانوں پر جو ظلم کےپہاڑ توڑےگئےوہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن گئے۔ ظالم بھی کوئی اور نہیں وہی لوگ تھےجو برسوں سےاُن کےپڑوسی تھے جو ایک ہی تھالی میں کھاتےاور ساتھ ہی اُٹھتےبیٹھتےتھے۔ اُنھوں نےکوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ گھر لوٹے، فرنیچر میدان میں اکٹھا کرکےجلا دیا ۔ فریج ، ٹی وی ، زیورات ، روپیہ پیسہ سب لےگئےکچھ بھی نہ چھوڑا پولس تماشائی بنی رہی ۔ پولس نےتو حد ہی کردی مسلم نوجوانوں کو گھروں سےنکال کر گولیوں سےبھون ڈالا ۔ بوڑھوں اور بزرگوں کی داڑھیاں نوچ لیں ، عورتوں کےآنچل پھاڑ دئےپھر گھروں کی تلاشیوں کا سلسلہ بھی چلا ۔ جو کچھ ہاتھ لگا وہ پولس بھی لےگئی ۔ پولس والےبار بار چلا کر یہی کہہ رہےتھےکہ یہ سب دیش دروہی اور غدار ہیں اِنھیں ملک سےباہر نکالو پاکستان بھیج دو ۔
خدا بخش کا جوان بیٹا اُسی دن پولس کی بربریت کا شکار ہوا تھا پولس نےگھر کےاندر سےباہر گھسیٹ کر اُسےگولی مار دی ۔ خدا بخش اپنےبیٹےکی تڑپتی لاش کو دیکھتا رہا وہ چیخ بھی نہ سکا اُس کی ساری چیخیں اُس کےاندر ہی کہیں دب گئی تھیں اُس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور پھر پولس نےاُس کےکپڑےپھاڑےبندوق کےہتھےسےاُس کی خوب پٹائی کرکےپولس وین میں اُسےجانوروں کی طرح ٹھونس دیا گیا ۔
خدا بخش کی دونوں لڑکیاں اور بیوی کو مَیں نےاپنےگھر میں پناہ دی تھی ۔ کئی دنوں تک اُنھیں چھپا کر رکھا تو کالونی کےغنڈےاور شاکھا پرمکھ مجھےپریشان کرنےلگے۔ فون پر جان سےمار ڈالنےکی دھمکی دینےلگے۔ فلیٹ پر آکر بار بار بیل بجاتے، دروازےپر ہی چلانےلگتےاور نعرےلگاتے۔ ہٹ دھرمی کرتےکہ مسلم عورتوں کو ہمارےحوالےکرو ہم اُنھیں چھوڑیں گےنہیں ۔ میرا دروازہ بند ہی رہتا تھا پھر میری کھڑکی سےپتھر آنےلگے، سیٹیاں بجنےلگیں اور تلواریں اور ترشول چمکنےلگے۔
پھر ایک دن شاکھا پرمکھ نےمجھےآفس بلوایا اور غصہ بھرےلہجےمیں کہنےلگا تم دھرم سےغداری کر رہےہو مسلمانوں سےاتنی ہمدردی کیوں ؟ یہ سب دیش دروہی ہیں اِنھیں تو کالونی سےنہیں بلکہ دیش سےہی باہر نکال دینا چاہیئے۔ اگر تم نےاُنھیں ہمارےحوالےنہیں کیا تو اِس کا انجام بہت بھیانک ہوسکتا ہے۔ تمہارا گھر !
مَیں واقعی ڈر گیا ، گھبرا گیا تھا کیونکہ میں تنہا نہیں تھا میری بھی جوان لڑکیاں تھیں بیوی بچوں کی بےبسی دیکھ کر میری بھی ہمت جو مَیں نےبرسوں میں اکٹھاکی تھی وہ ٹوٹنےبکھرنےلگی مَیں ایک دم لاچار اور بےبس ہوگیا تھا غیر سماجی عناصر سےدشمنی بہت مہنگی پڑتی ہےنہ اُن سےدوستی اچھی نہ دشمنی ۔
ایک دن جب کرفیومیں نرمی ہوئی تو میں نےاُن کو نزدیک کی جھونپڑپٹی میں چھوڑ دیا وہ لوگ غوثیہ مسجد میں چلےگئےتھےجہاں خدا بخش نماز پڑھاتا تھا اُس مسجد پر بھی حملہ کرکےاُسےبھی نقصان پہنچایا گیا تھا مگر وہاں کےلوگ محفوظ تھے۔ مجھےیقین تھا کہ وہ لوگ صحیح مقام پر پہنچ گئےہیں ۔ اُن کی زندگیوں کو بچا کر میں نےاپنےتئیں ایک بہت بڑا اور نیک کام انجام دیا تھا ۔ جب حالات ذرا سنبھل گئےاور راستےبےخوف ہوکر چلنےلگے، فضا سےخون اور بارود کی بُو غائب ہوگئی تو ایک دن اچانک خدا بخش کی بیوی گھر پر چلی آئی میں۔ مَیں اُنھیں دیکھ کر غم و خوشی کےملےجلےجذبات میں گھر گیا ۔
بھابی جی ! آپ کیوں آئیں ؟ تھوڑا انتظار تو کیا ہوتا بےچینی اور غیر اطمینانی اب بھی قائم ہے۔ اِکّا دُکّا وارداتیں بھی ہورہی ہیں ۔ ہم تو جھوٹ کےسہارےزندہ ہیں کہ حالات قابو میں ہیں ۔ لوگ اِسی جھوٹ کےسہارےزندگیوں کےبوجھ دن بھر اپنےکندھےپر لئےگھومتےاور اپنےگھروں میں قید ہوجاتےہیں ۔ حالانکہ گھروں میں لگی آگ تو کب کی بجھ چکی تھی مگر دلوں میں آگ برابر جل بجھ رہی تھی ۔ نفرت کی چنگاریاں فضا میں اُڑ رہی تھیں اور نیلا آسمان شفق میں خون کی سرخی لئےخاموش تماشائی بنا ہوا تھا ۔ اب تو راستےبھی قدموں کی چاپ سےڈر جاتےہیں اور خوف و دہشت کا دھواں پھیلا ہوا ہے۔
بھابی اپنا فلیٹ دیکھنےآئی تھیں جو پوری طرح سےبرباد ہوچکا تھا وہ خوب روتی ، آہ و زاری کرتی اور اپنی قسمت کو کوستی رہیں اورفساد کی تباہ کاری کو خدا کا قہر سمجھتی رہی اور کہنےلگی خدا کو جو منظور ہوتا ہےوہی ہوتا ہےہم انسان تو بےبس ہیں ۔ پھر اُنھوں نےخدا بخش کےبارےمیں تفصیل سےبتایا جسےسن کر میری آنکھوں سےآنسوو

ں کی گنگا جمنا بہنےلگی اور میں خوب رویا اور روتا ہی چلا گیا ۔ کیونکہ خدا بخش کو ٹاڈا قانون کےتحت بند کردیا گیا تھا اور اُس کی ضمانت بھی نہیں ہوسکتی تھی ۔ اُس پر الزام تھا کہ اُس نےہندو بستی پر حملہ کیا تھا اور اُس کےگھر سےبغیر لائسنس کا ریوالور بھی دستیاب ہوا تھا ۔ جب کہ میں اچھی طرح سےجانتا تھا کہ اُس کےگھر میں صرف سبزی ترکاری کاٹنےوالا ایک چاقو تھا ایک لاٹھی تھی جس کےسہارےوہ مسجد تک جاتا تھا اِس کےعلاوہ اُس بےگناہ کےگھر میں کچھ نہ تھا مگر پولس کی سازشوں سےآج تک کون بچ سکا ہے۔ اُن کی زیادتیاں اِس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اب اِن محافطوں کو دیش کا سپاہی کہنا ایک بہت بڑی گالی بن گیا ہے۔ ایک نیک انسان کو قانون کا مجرم بنا دیا گیا تھا اور اُسےدہشت گرد سمجھا جانےلگا تھا ۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سےمیں خدا بخش کی خیریت بھی دریافت نہیں کرسکا تھا مگر میرا دل اُس کےلئےبرابر دھڑکتا اور تڑپتا تھا ۔ بھابی نےبتایا تھا کہ وہ عمر واڑی ریلیف کیمپ میں پناہ گزیں ہیں شہر کےتباہ و برباد اور بےگھر لوگ اُسی کیمپ میں ہیں ۔ امن کمیٹیاں اور شوشل ورکرس لوگوں کو بسانےکی کوششیں کررہےہیں اور اُن کےآنسو پونچھ رہےہیں ۔ جیسےہی حالات پرامن ہوجائیں گےہم وہاں سےکہیں اور چلےجائیں گے۔
پھر اکثر اُن کا آنا جانا رہا بوڑھےشوہر کی گرفتاری اور جوان بیٹےکی موت نےاُن کو توڑ دیا تھا وہ خدا بخش کی رہائی کےانتظار میں زندہ تھیں ۔ ایک دن شاکھا پرمکھ نےاُن سےخود کہا تھا کہ وہ اِس کالونی سےفوراً چلےجائیں کیونکہ اب ہندو مسلمانوں کو اپنی کالونی میں برداشت نہیں کریں گے۔ شہر کےمختلف علاقوں اور محلوں سےبھی مسلمانوں کو بھگایا جارہا ہے۔ اُنھیں ہندو بستیوں میں نہیں رہنےدیا جائےگا ۔ اِس سےپہلےکہ ایسا یہاں بھی ہو آپ اِس فلیٹ کو خالی کردیں ۔ پھر اُنھوں نےڈر کر شیواجی نگر کےاِس پیارےسےفلیٹ کو بہت ہی سستےداموں میں فروخت کردیا ایک دم مٹی کےمول اور ہمیشہ کےلئےیہاں سےچلی گئی پھر کبھی اِس کالونی میں نظر نہیں آئیں ۔ اُنھوں نےمجھےاپنا نیا پتہ بھی دیا تھا میں اکثر و بیشتر ملت نگر چلا جاتا بھابی اور بچوں کی خیریت دریافت کرتا اُن کےپاس بیٹھ کر خدا بخش کی یاد میں آنسو بہاتا اور بوجھل دل سےگھر واپس آجاتا ۔
اب میں مطمئن ہوگیا تھا کہ بھابی اور بچےصحیح مقام پر پہنچ گئےہیں مگر میری بےچینی میں اُس وقت اور اضافہ ہوجاتا جب میں خدا بخش کےمتعلق سوچنےلگتا تو میں مایوس ہوجاتا ۔ مندر جاکر اُس کےلئےپرارتھنا کرتا کہ بھگوان اُسےبچا لےاور اُسےٹاڈا سےرہا کرا دے۔ میں کئی بار اُس سےملنےجیل بھی گیا ٹاڈا کورٹ میں جب بھی اُسےپیش کیا جاتا تو ہم اُسےدیکھنےچلےجاتے اُس کی مظلومیت پر آنسو بہاتےمگر ہمیں اُس وقت تعجب ہوتا جب وہ لاچار اور بےبس ہوتےہوئےبھی پرسکون اور مطمئن دکھائی دیتا ۔ جس نےاپنےجوان بیٹےکو اپنی آنکھوں کےسامنےذبح ہوتےجانور کی طرح تڑپتےہوئےدیکھا تھا پھر بھی وہ یہ منظر دیکھ کر ذرا بھی منتشر نہیں ہوا تھا میں اُسےاِس حالت میں دیکھ کر اُس پر رشک کرنےلگا ۔
مسلمانوں کا اِس فساد میں بہت نقصان ہوا تھا مالی بھی اور جانی بھی ۔ اور ہم تو ویسےبھی فائدےہی میں رہےتھےکہ مسلمانوں کےفلیٹ سستےداموں میں ہمارےہاتھ لگ گئےتھے۔ کچھ تو ناجائز طریقےسےہڑپ لئےگئےتھے کالونی کےمکینوں میں اب یہ رحجان بڑھتا ہی جارہا تھا کہ مسلمانوں کو ہراساں کرکےنفسیاتی دباو

ڈال کر یہاں سےباہر بھگا دیں اور اُنھیں اپنےگھر بیچنےپر مجبور کردیں ۔
ڈیڑھ سال کےطویل عرصےبعد جیل کی صعوبتوں کو جھیل کر خدا بخش رہا ہوگیا تو میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی مجھےیوں لگا جیسےمیری برسوں کی تپسّیا رنگ لائی ہے میں اُس سےملاقات کےلئےبےچین ہو اُٹھا مگر حالات کی دلدلی زمین میں سارےرشتےناطےاور جذبات دھنستےچلےگئےتھے شرمندگی اور احساسِ ندامت نےمیرےپیروں میں زنجیر ڈال دی تھی مجھےیوں محسوس ہوتا تھا کہ کالونی کےمکینوں نےخدا بخش اور اُس کےخاندان کےساتھ جو کچھ بھی کیا تھا اُس کا ذمہ دار شاید میں بھی تھا ۔ اِس لوٹ مار ، توڑ پھوڑ اور آگ زنی میں مَیں بھی شریک تھا ۔ سب کچھ میری آنکھوں کےسامنےہوا اور میں اپنےپیارےدوست کو بچا بھی نہ پایا جب میں یہ سب سوچتا ہوں تو میرےاند کا آدمی میرےاندر قہقہےلگاتا اور مجھےچڑاتا اِسی لئےمیں خدا بخش کا سامنا نہیں کرپارہا تھا ۔ بلکہ میں اپنےآپ کو اُس خاندان کا مجرم تصور کرنےلگا تھا ۔
ایک دن صبح جب میں اخبار پڑھنےمیں مصروف تھا کہ دروازےکی بیل بجی میں سوچنےلگا کہ شاید یہ کوئی اپنا ہی ہے۔ دروازہ کھولا تو سامنےخدا بخش کھڑا تھا اور اُس کےہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ رقص کر رہی تھی اور آنکھوں میں عجیب سی چمک اور چہرےپر تازگی دکھائی دےرہی تھی ۔ میں فرطِ جذبات سےچلا کر اُس سےلپٹ گیا اور زار و قطار رونےلگا ۔ آو

اندر آو

! بیٹھو ۔ خدا بخش صوفےپر دراز ہوگیا ۔ میں نےدیکھا کہ اُس کی آنکھوں میں تو جیسےآنسوو

ں کےسوتےخشک ہوگئےتھےاور وہاں بس گہرا سناٹا تھا چہرےپر فکر مندی کی پرچھائیاں تھیں وہ مجھےتسلی دیتا رہا ۔ چپ ہوجا سُکھ دیو ! چپ ہوجا خدا کی مصلحت کےآگےانسان کا بس نہیں چلتا ۔ شکر ہےاُس رب کا کہ اُس نےمجھےرہا کرا دیا ۔
وہ کافی دیر تک بیٹھا اور ہم گپ شپ کرتےرہے۔ یہاں وہاں کےقصےسنتےسناتےرہےمگر اِس دوران میں نےمحسوس کیا کہ خدا بخش پہلےسےکہیں زیادہ اپنےارادوں میں پختہ اور اٹل ہوگیا ہے۔ وہ ذرا بھی ٹوٹا نہیں جھکا نہیں جیل کی تکلیفوں اور پولس کےجبر نےاُس کےاندر جینےکی ساری تمناو

ں کو جگا دیا تھا ۔
وہ جتنی دیر بیٹھا رہا جیل اور پولس کےبارےمیں بتاتا رہا ۔ اُس کی باتیں سن کر میرےرونگھٹےکھڑےہوگئےتھے۔ بھگوان دشمن کو بھی جیل کی ہوا نہ کھلائے آخر کار وہ مجھےپرانی یادوں کےصحرا میں تنہا چھوڑ کر چلا گیا شاید بہت دور ! اور میں اُس کےمتعلق سوچتا ہی رہ گیا اور اِس نتیجےپر پہنچا کہ اب ہمارےدرمیان ہندو اور مسلمان نام کی ایک بہت گہری خلیج حائل ہوگئی تھی جسےہم دونوں کوشش کےباوجود پاٹ نہیں سکتےتھے۔ اب میں نہ کاکا رہ گیا تھا اور نہ وہ چاچا میں نےاپنےبچوں کےچہرےپڑھ لئےتھےجن پر بہت کچھ تحریر تھا ۔ کئی کہانیاں ، کئی قصے، کئی باتیں وہ سب خدا بخش کو مشکوک نگاہوں سےدیکھ رہےتھےڈیڑھ سال کےطویل عرصےمیں ہندتوا کےپرچار نےرشتوں کےمفاہم بدل کر رکھ دئےتھے۔ وہ جس ماحول کےپروردہ تھےوہاں پر خدا بخش جیسےمسلمانوں کو دیش کا دشمن یا دہشت گرد سمجھا جاتا تھا ۔ مگر اِن بچوں کو کون سمجھائےکہ خدا بخش کو سمجھنےکےلئےاُنھیں دوسرا جنم لینا پڑےگا ۔
اب میں نہ چاہتےہوئےبھی دیگر ہندوو

ں کی طرح رام بھگت یا کار سیوک بنا دیا گیا تھا اور خدا بخش پر تو غدار اور دیش دروہی کا داغ لگ چکا تھا ۔ میں نےحالات کی دلدلی زمین دیکھ لی تھی خون میں لت پت ترشول بھی دیکھےتھےاور آنکھیں بند کرلی تھیں تو میرےسامنےخدا بخش آکر کھڑا ہوگیا جو مصیبتوں اور زیادتیوں کےچکر ویو سےایک دم صحیح و سالم باہر آگیا تھا اُس میں کہیں کوئی دراڑ نہیں تھی میں نےفوراً آنکھیں کھول دیں اور اپنےوجود کی عمارت میں جھانک کر دیکھنےلگا تو مجھ پر حیرت کےپہاڑ ٹوٹ پڑے۔ کیونکہ میرےوجود کی عمارت جگہ جگہ سےٹوٹ گئی تھی اور اُس میں ایک بہت بڑی دراڑ پڑ چکی تھی ۔
اور پھر سُکھ دیو اخبار ٹیبل پر رکھ کر اپنی گیلی آنکھوں کو صاف کرنےلگا ۔
ختم شُد

 

 

 

 

Contact:-

Mazhar Salim

Gaurav Apartment ,Holy Cross Road

Borivali(West)

MUMBSI-400102

Phone:-(022)28909191

Contact:-

 

M.Mubin

303-Classic Plaza,Teen Batti

BHIWANDI-421 302

Dit.Thane( Maharashtra,India)

Phone:-(02522)256477

Mobile:-09372436628

Email:-mmubin123@gmail.com